نئی دہلی 6 فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر تحریک شکریہ میں بارامتی (مہاراشٹرا) کی ممبر پارلیمنٹ اور این سی پی لیڈر سپریا سُولے نے حکومت کو جم کر آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اس میں کام کم دکھاوا زیادہ ہے۔ 3 فروری کو لوک سبھا میں دیا گیا سُپریا سولے کا خطاب ممبئی سے شائع ہونے والے معروف اُردو روزنامہ انقلاب نے شائع کیا ہے، جسے ہم یہاں قارئین کی دلچسپی کے لئے انقلاب کے شکرئے کے ساتھ پیش کررہے ہیں:
ہر سرکار کچھ نہ کچھ اچھا کام کرتی ہی ہے، ایسا تو نہیں ہے کہ کوئی سرکار کچھ بھی اچھا نہ کرے لیکن کچھ چیزیں شاید حقیقت سے دور ہیں یا پھر سب کو (تقریر کا )ایک ہی جیسا مسودہ ملا ہے اور وہی سب نے پڑھا ہے۔ کہیں کچھ نیا نہیں ہے۔ بجٹ تقریر اوراس سے قبل عزت مآب صدر جمہوریہ کی تقریر کا مسودہ تقریباً ایک جیسا تھا۔پتہ ہی نہیں چلا کہ کون سی تقریر بجٹ پر ہے اور کونسی صدر کی تقریر ہے۔ کیوں کہ ہر ایک میں ۱۰؍ سال کا حساب ہے، اس سال اور اگلے سال کا حساب تو ہے ہی نہیں۔ ہر چیز دکھاوا اور ہر چیز ایونٹ ہے۔ ایونٹ ختم ہوجاتا ہے اور پھر لوگ بھول جاتے ہیں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ جب یہ حکومت آئی تھی تو سنسد گرام یوجنا شروع کی گئی تھی، اس کا کیا ہوا، پتہ نہیں؟ ۱۰؍ سال سے میں نے یہ یوجنا کہیں نہیں دیکھی۔ سوچالیہ کی بہت باتیں ہوئیں، بہت سارے سوچالیہ بنے بھی مگر کتنے ان میں سے استعمال کے لائق ہیں،اس کا کوئی حساب نہیں ہے۔ سوچھ بھارت کو لے لیجئے۔ اس کیلئے تمام ریاستیں کام کرتی ہیں مگر کہیں کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ ریلویز میں تبدیلی ہوئی ہے ، میں تسلیم کروں گی، ریلوے پہلے سے صاف ہوئی ہے۔ جو اچھا ہے اسے اچھا کہا جائےگا لیکن کیا ملک میں گندگی کم ہوئی ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہوا ہے۔
بجٹ سے قبل آپ نے بھی ٹی وی دیکھا ہوگا، ہر خاتون چاہتی تھی کہ مہنگائی کم کی جائے مگر بجٹ میں مہنگائی کے تعلق سے مکمل خاموشی ہے۔ بیروزگاری کےمعاملے میں تو ڈیٹا خود سب کچھ کہہ رہاہے۔ ۲؍ کروڑ نوکریوں اور ۱۵؍ لاکھ کے جملے کا تو حوالہ دے د ے کر ہم لوگ تھک چکے ہیں۔ آج بھی بڑی بڑی کمپنیاں ملازمین کو نکال رہی ہیں مگر کوئی کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔
مہاراشٹر جہاں سے میں آتی ہوں، بے چینی ہے۔ ریزرویشن کیلئے آندولن ہو رہا ہے، آشا ورکر اور آنگن واڑی کی بہنیں آندولن کررہی ہیں، ڈاکٹر آندولن کررہے ہیں، ٹیچر آندولن پر مجبور ہیں ہیں، تلاٹھی کا پیپر لیک ہوا تو وہ بھی آندولن کرنے لگے۔ اس کے بعد خواتین ریزرویشن کا معاملہ دیکھ لیجئے، اس پرآگے کچھ ہوا ہی نہیں۔ آپ نے چیک تو سائن کرلیا مگر اس پر تاریخ ہی نہیں ڈالی۔ پھر میں وہی کہوں گی کہ اس حکومت میں دکھاوا زیادہ ہے، کام کم ہے۔ منی پور کے بارے میں تو کوئی کچھ کہنے کو ہی تیار نہیں۔ہم کتنے بے حس ہوگئے ہیں۔ کیا ہم صرف اچھے معاملوں پر بات کریں گے اور باقی چیزوں کو قالین کے نیچے چھپادیں گے؟پارلیمنٹ ایسے معاملات پر سنجیدگی سے گفتگو کرنے کی ہی جگہ ہے۔ جموں کشمیر کو ہی لیجئے، کیا وہاں سب کچھ ٹھیک ہے؟ آپ کو یاد ہوگا کہ وہاں دسمبر میں کتنا بڑا حملہ ہواتھا۔ یہ وہ معاملات ہیں جن پر اس ایوان میں سنجیدگی سے گفتگو ہونی چاہئے اور ہم چاہتے ہیں کہ وزیراعظم ان امور پر جواب دیں۔ ہم بھی اچھے مشورے دیں گے۔ جمہوریت اسی طرح کام کرتی ہے۔ انکم ٹیکس، سی بی آئی اور ای ڈی کو استعمال کرنا حکومت چلانا نہیں ہے۔(آپ) کانگریس مکت بھارت کرنے والے تھے مگر جتنے کانگریس والے کانگریس میں نہیں ہیں اس سے زیادہ ہر ریاست میں بی جےپی میں نظر آتے ہیں۔ میں سمجھ رہی تھی کہ کانگریس کو ختم کردیں گے، میں یہی نہیں سمجھ پائی تھی کہ کانگریس کو نگل جائیں گے۔ یہ تو نیا ہی فارمولہ لے آئے۔‘‘